اسٹیبلشمنٹ نے مجھے 3 آفرز دی تھیں،وزیراعظم

Must read

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے مجھے 3 آفرز دی تھیں کہ عدم اعتماد، استعفیٰ یا نئے اليکشن کروائيں جس پر میں نے کہا تھا کہ نئے الیکشن سب سے بہتر طریقہ ہے۔

اسٹیبلشمنٹ نے مجھے 3 آفرز دی تھیں،وزیراعظم
اسٹیبلشمنٹ نے مجھے 3 آفرز دی تھیں،وزیراعظم

ٹی وی انٹرویو میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہبازشريف سے کوئی بات نہيں کرسکتا، عمران خان ہٹ بھی جاتا ہے تو يہ ملک کيسے چلائيں گے، بہتر ہوگا کہ ہم نئے اليکشن کرواليں۔ انہوں نے کہا کہ ضمیر فروشوں کے پاس ابھی بھی وقت ہے اپنا مستقبل بچالیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خط ميں لکھا ہے کہ حکومت نہيں عمران خان کو ہٹاؤ، ان کو پتہ ہے عمران خان چپ کرکے نہيں بيٹھے گا، ميری جان کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھمکی دی کہ اگر عمران خان جيت جاتا ہے توملک کو مشکل کا سامنا ہوگا اور اگر عمران خان ہار جاتا ہے تو پاکستان کو معاف کرديں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ باہر سے لوگوں کو یہاں کے میرجعفروں کی ضرورت ہوتی ہے، ميری خارجہ پاليسی ميں پاکستانيوں کے حقوق پہلے آئيں گے، روس، چین، امريکا، برطانيہ سب سے دوستی کرنی چاہيے، بھارت ہمارے ساتھ آزاد ہوا تھا،اُن کی خارجہ پاليسی ديکھ ليں۔ بھارت کو کوئی ایسی دھمکی دینے کا سوچ سکتا ہے؟ ديکھ ليں بھارت اور پاکستان کے پاسپورٹ کی کياعزت رہی۔

انہوں نے کہا کہ يہ ملتے کيوں ہيں؟مريم نواز کو کون سی خارجہ پاليسی کاپتہ ہے؟ ان ڈاکوؤں نے ہميں دنيا ميں ذليل کيا، ان کو فکر نہيں کہ پاکستان بنانے کا مقصد کیا تھا، ان چوروں نےنظريہ پاکستان بھلاديا، پوری دنيا ميں لاوارث کرديا،جنگ ميں شرکت کی،گالياں بھی کھائيں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں کسی ملک کیخلاف نہیں ہوں، امريکا جاکر بھی کہا آپ کی جنگ ميں شرکت نہيں کروں گا، نظریہ پاکستان کيلئے سياست ميں آيا، سیاست میں ذاتی مفادات کیلئے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ باہر کی قوتيں انہيں استعمال کررہی ہيں، اپنی حکومت بچانا چاہتا تو ان کواين آر او دے ديتا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جب سے يہ دونوں آئے ہم دنیا میں پيچھے رہ گئے، يہ نوازشريف کو واپس بحال کريں گے، ججز کوڈرانا دھمکانا نوازشریف نے شروع کيا، شريف فیملی 30سال سے پاکستان کو لوٹ رہے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ سازش سے متعلق اگست سے معلوم ہوگيا تھا، لندن ميں نوازشريف لوگوں کومل رہاتھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی شکلیں قوم کو یاد کرنی چاہیئں،یہ قوم کے غدار ہیں، عوام کے پاس جاؤں گا کہوں گا بھاری اکثريت دو، سارے چوروں پر بڑے بڑے کيسز بنے ہوئے ہيں، ان پر ايسے کيسز ہيں کہ سب کو اندر ہونا چاہيے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ کبھی اپنی فوج کیخلاف بات نہیں کروں گا، مضبوط فوج نہ ہو تو دشمن پاکستان کے3 ٹکڑے کرسکتےہيں، ميں نومبر کا سوچ ہی نہيں رہا، آرمی چيف سے تعلقات ٹھيک ہيں، استعفے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ عدم اعتماد میں اگر ہم کامیاب ہوتے ہیں تو پھر یہ اچھا آئیڈیا ہے کہ فوری الیکشن میں جائیں۔ ہمارے لوگ چلے گئے،ان لوگوں کيساتھ یہ حکومت نہيں چلاسکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا بلدیاتی الیکشن ميں آدھے سے زيادہ نشستیں ہم جيت چکے ہيں۔ چاہوں گا دوبارہ اکثريت کے ساتھ واپس حکومت میں آؤ تاکہ سارا گند صاف کروں۔

More articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest article