تحریک عدم اعتماد:قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی

Must read

تحریک عدم اعتماد:قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی

تحریک عدم اعتماد:قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے قومی اسمبلی کا اجلاس اتوار دوپہر ساڑھے11بجے تک ملتوی کردیا۔

وزیراعظم کیخلاف 28 مارچ کو متحدہ اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش کیے جانے کے بعد آج ہونے والے اجلاس میں تحریک پر بحث متوقع تھی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کا کہنا تھا کہ ميں تيار تھا،ارکان کارروائی جاری رکھنے کیلئے سنجيدہ نہيں تھے، اسمبلی کا ماحول ہی ايسا نہيں تھا کارروائی جاری رکھی جائے۔

ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تیاری مکمل ہے یہ عمران خان کو بھی پتا ہے، اپوزیشن کی تیاری آج بھی مکمل تھی،ووٹنگ والے دن بھی مکمل ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس اتوار سے آگے لے جانے کی آئین اجازت نہیں دیتا ، ڈپٹی اسپیکر نے بدنیتی سے اجلاس اتوار تک ملتوی کیا ہے، عوام کا ایک ہی سوال ہے عدم اعتماد پرووٹنگ کب ہوگی۔

مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد پر اتوار کے اسمبلی سيشن ميں ہی ووٹنگ ہوگی۔

قرارداد کے متن کے مطابق وزیر اعظم عمران خان ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں، عمران خان اب وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز نہیں رہ سکتے۔

خیال رہے کہ جمہوری وطن پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کی حکومتی اتحاد سے الگ ہونے کے بعد متحدہ اپوزیشن کو مطلوبہ 172 نمبر سے بھی زیادہ تعداد حاصل ہو گئی ہے۔

دوسری جانب بدھ 30 مارچ کو اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں متحدہ اپوزیشن کے اجلاس میں تحریک انصاف کے 22 اراکین اسمبلی نے بھی شرکت کی، شرکت کرنے والوں میں نور عالم خان، افضل ڈھاندلا، نواب شیر وسیر، راجہ ریاض، احمد حسین ڈیہڑ، رانا محمد قاسم نون، عبدالغفار وٹو، سید باسط احمد ، عامر طلال، خواجہ شیراز محمود، سردار ریاض محمود خان، وجیہہ قمر، نزہت پٹھان، رمیش کمار، جویریہ ظفر آہیر، فواد چوہدری کے کزن فرخ الطاف، عامر لیاقت حسین اور عاصم نذیر میں شامل تھے۔

More articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest article