حکمرانوں اس خط کو گولڈن
لیٹر کا نام کیو دیا گیا؟

Must read

برما کے بادشاہ کا شاہِ انگلستان کے نام خط جسے گولڈن لیٹر کہا جاتا ہے
ویب ڈیسک 28 مارچ 2022
برطانیہ سے آزادی کی تحریکیں جب برصغیر میں چلیں تو پاکستان اور بھارت کی طرح برما بھی آزاد ہوا۔

اس سے قبل یہاں بادشاہت قائم تھی اور اٹھارہویں صدی عیسوی میں‌ الونگ پھیہ (Alaungphaya) اس زمانے میں‌ میانمار (برما) کا حکم ران تھا جسے سلطنت کے تین عظیم بادشاہوں میں‌ سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ آج بھی اس بادشاہ کے مجسمے اور مختلف یادگاریں‌ برما میں دیکھی جاسکتی ہیں۔جب برما کے شاہی خاندانوں کا ذکر ہوتا ہے اور الونگ پھیہ کے عہد کی بات ہوتی ہے تو ہمیں‌ ایک ایسے نادر و اعجوبہ خط کے بارے میں‌ بھی معلوم ہوتا ہے جسے گولڈن لیٹر کے نام سے یاد رکھا گیا ہے۔ یہ خط سابق برمی شاہی حکم ران الونگ پھیہ نے انگلستان کے بادشاہ جارج ثانی کے لیے لکھا تھا۔

یہ خط خالص سونے کی ایک شیٹ پر مشتمل ہے جس پر زیبائش کی غرض سے قیمتی پتّھر لعل یا روبی جڑے گئے ہیں۔ خالص سونے کی شیٹ پر یہ پیغام (خط) 1756ء عیسوی میں انگلستان کے شاہی دربار کو بھیجا گیا تھا۔یہ خط پچھلے ڈھائی سو سال سے جرمنی کے شہر ہینوور کی لائبنس لائبریری میں ایک صندوق میں محفوظ ہے۔ یونیسکو کی جانب سے اس خط (گولڈن لیٹر) 2015ء میں دنیا کی ایک یادگار قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اس کے مندرجات محققین کے لیے چیلنج رہے ہیں۔

سونے کے اس قیمتی شاہی خط کو ماہرین اور محققین نے دیکھنے اور تحریر کو سمجھنے کی کوشش کے بعد بتایا کہ برمی بادشاہ نے انگلستان کو اس خط کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین تجارت بڑھانے اور اس حوالے سے تعاون کی تجویز دی تھی۔ یہ خط تہ لگا کر یا موڑ کر نہیں بلکہ اس طرح سیدھا رکھا گیا تھا کہ اس کی شکل، سجاوٹ اور تحریر خراب نہ ہو اور اسے باآسانی پڑھا جاسکے۔

گولڈن لیٹر سونے کی تقریباً پونے دو فٹ لمبی اور پونے پانچ انچ چوڑی شیٹ پر محیط ہے۔ برمی بادشاہ کے اس خط پر دو درجن قیمتی پتّھر لگے ہوئے تھے۔ مؤرخین کے مطابق شاہِ برطانیہ نے اس خط کو شاہی لائبریری میں خوب صورت یادگار کے طور پر محفوظ کروا دیا۔ اس زمانے میں شاہی لائبریری شمالی جرمنی کے شہر ہینوور میں قائم تھی جب کہ بادشاہ کی ایک رہائش گاہ بھی اسی شہر میں ہوا کرتی تھی۔

ریاستوں کے مابین جنگوں اور دشمن افواج حملوں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ تاریخی نوعیت کے اہم مقامات اور مراکز، قیمتی نوادرات، شاہی یادگاروں وغیرہ کو نقصان پہنچایا جاتا رہا ہے اور لوٹ مار کی جاتی تھی۔ اسی طرح ڈنمارک کے بادشاہ نے 1768ء میں لشکر کشی کے دوران اس خط کو کھوکھلے ہاتھی دانت کے اندر موڑ کر رکھوا دیا تھا۔ اس طرح سونے کی یہ شیٹ اور اس پر لکھے ہوئے حروف خراب ہوگئے جنھیں بعد میں پڑھنا مشکل ہو گیا تھا

More articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest article