سارے ادارے مخالف ہیں تو الیکشن میں کیسے جائیں گے؟ 1400 لوگوں کے سوال پر عمران خان کا جواب آگیا

Must read


سارے ادارے مخالف ہیں تو الیکشن میں کیسے جائیں گے؟ 1400 لوگوں کے سوال پر عمران …

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ اداروں کے اندر بھی انسان ہی ہیں، اگر ایک آدھ انسان غلطی کردیتا ہے  تو اس سے پورا ادارہ خراب نہیں ہوجاتا، اس بار پوری تیاری کے ساتھ الیکشن میں جائیں گے۔

عمران خان پہلی بار ٹوئٹر سپیس پر خطاب کر رہے ہیں، اس دوران ان سے سوال کیا گیا کہ سارے ادارے مخالف ہیں تو ایسے میں الیکشن میں کیسے جاسکتے ہیں؟ اس دوران میزبان نے بتایا کہ یہ سوال 1400 لوگوں نے پوچھا ہے۔

اس سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ اس وقت جو تحریک بنی ہوئی ہے یہ ایک حقیقی آزادی ہے، آزادی یہ ہے کہ سب سے دوستی ہو لیکن اپنے لوگوں کے مفادات کسی اور ملک کیلئے قربان نہ کریں۔ اس وقت چیف الیکشن کمشنر پی ٹی آئی کے بہت زیادہ خلاف ہے، اس کے تمام فیصلے پی ٹی آئی کے خلاف آئے ہیں۔ اگر فارن فنڈنگ کے کیس کو ہی دیکھ لیں تو اس میں فارن فنڈنگ تو ہے ہی نہیں بلکہ یہ وہ پیسے ہیں جو سمندر پار پاکستانیوں نے بھیجے ہیں۔ جس وقت بھی  تینوں جماعتوں (تحریک انصاف، ن لیگ ، پیپلز پارٹی ) کی اکٹھے تحقیقات ہوں گی تو  تحریک انصاف ہی واحد پارٹی ہے جس کے پاس باقاعدہ ڈیٹا ہے۔ باقی جماعتوں کے پاس فنڈنگ کا  کوئی طریقہ کار نہیں ہے کیونکہ یہ ان لوگوں سے فنڈ لیتے ہیں جن کے ساتھ مل کر یہ پیسے بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب حالات سب سے زیادہ مختلف ہیں، پہلی بار پوری قوم کو محسوس ہوا کہ باہر سے سازش ہوئی اور اسی کے ذریعے حکومت تبدیل ہوئی، باہر کی سازش اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی جب تک اندر میر جعفر نہ بیٹھے ہوں، ان لوگوں کو ملک کے اوپر مسلط کردیا گیا ہے جو کرپٹ ترین لوگ ہیں، ان میں سے آدھے ضمانتوں پر ہیں، اب یہ آکر کہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف نے بڑے برے حالات کردیے ہیں، حالانکہ جب ہم نے اقتدار چھوڑا تو سب سے زیادہ برآمدات اور ترسیلاتِ زر تھیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پہلی دفعہ الیکشن کی پوری سائنس سمجھ کر الیکشن لڑیں گے، ہم اب حکمرانی کا طریقہ کار بھی سمجھ گئے ہیں، پہلے ہمیں اس کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ  اداروں کے اندر کس قسم کے بحران ہیں، اب ہمیں ساری چیزوں کی سمجھ آگئی ہے، اس بار نوجوانوں کو پوری طرح ٹریننگ دے کر الیکشن میں جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ  انہوں نے اپنی حکومت کے بڑی مشکل کے ساتھ ساڑھے تین سال گزارے، مخلوط حکومت تھی جس کے پاس بہت ہی تھوڑی سی اکثریت تھی، ہر وقت بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑتا تھا،اگلی بار میجورٹی کے ساتھ آئیں گے تاکہ بلیک میلنگ  کا سامنا نہ کرنا پڑے اور بہتر طریقے سے اصلاحات کی جاسکیں، اس بار بہت سے سبق سیکھے ہیں، ہمیں ٹیم کا بھی پتا چل گیا ہے،ہم ٹکٹس بہت سوچ سمجھ کر دیں گے۔

مزید :

اہم خبریںقومی





Source link

More articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest article