عوام کو اسلام آباد میں جمع کرینگے اگر پکڑ دھکڑ کی گئی تو یہ عدلیہ کیلئے چیلنج ہوگا عمران خان

Must read


عوام کو اسلام آباد میں جمع کرینگے ، اگر پکڑ دھکڑ کی گئی تو یہ عدلیہ کیلئے …

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )  چیئرمین پاکستان تحریک انصاف  اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم مئی کے آخر میں عوام کو اسلام آباد میں جمع کریں گے ، اگر پکڑ دھکڑ کی گئی تو یہ عدلیہ کے لئے چیلنج ہوگا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  سابق وزیر اعظم نے کہا کہ  پر امن احتجاج کرنا ہمارا حق ہے ، ہماری 26 سال کی سیاست دیک لیں ہم نے کبھی تصادم نہیں کیا  نہ عوام کو انتشار کا کہا ہے ،  عوام کو اسلام آباد میں  جمع کریں گے ، اگر پکڑ دھکڑ کی گئی و یہ عدالتوں کیلئے چیلنج ہے ،  فیسلہ کر لیں کہ ملک میں جمہوریت ہے یا نہیں ہے ،  کیا صرف پی ٹی آئی کی حکومت کوہی یاد دلانا تھا کہ جمہوریت ہے ؟، ہم فیک نیوز پر بھی ایکشن لیتے تو کہتے کہ آزادی صحافت پر قدغن ہے ، آج دیکھیں  میڈیا پر جو دباو ڈالا جا رہا ہے ہم اس سے متعلق سوچ بھی نہیں  سکتے تھے ۔ عابد شیر علی کا والد شیر علی کہتا تھا کہ رانا ثناء اللہ نے  18قتل کئے  ہیں ، دیکھ لیں انہوں نے اسے وزیر داخلہ  بنا دیا ہے ،  لیکن اگر انہوں  انہوں نے سختی کی تو حکومت کیسے چلائیں گے ؟۔ 

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ  ان کے خلاف تین کیسز کے فیصلے ہو چکے ہیں ،پانامہ  پیپرز میں انکشاف ہوا کہ ان کے لندن کے سب سے مہنگے علاقے مے فیئر میں چار اپارٹمنٹس  مریم کے نام پر ہیں ،  پہلی بار ان کو بتانا پڑا کہ یہ ہمارے اپارٹمنٹس ہیں ، انہیں مجبوری میں تسلیم کرنا پڑا ،  سپریم  کورٹ میں  کیس چلا ، پھر جے آئی ٹی بنی اور پھر سپریم کورٹ نے سزا دی ۔نواز شریف کو ڈیڑھ ارب روپے ، بچیس ملین ڈالر ، اور آٹھ ملین  پاؤنڈ کا  جرمانہ ، 10سال قید کی سزا ہوئی پھر وہ بیماری کا بہانہ کر کے ضمانت پر باہربھاگ گیا۔ مریم نواز کو 8 سال کی سزا ور دو ملین پاؤنڈ کی سزا ہو چکی ہے جبکہ نواز شرف کے بیٹے حسن نواز اور حسن نواز ان کے ہی دور میں ملک سے مفرور ہو گئے ۔

 کپتان نے کہا کہ انہوں نےاپنے گھروں کے ملازمین کے نام پر  ٹی ٹیز منگوائیں  جب  ان کے پاسپورٹ چیک کریں تو علم ہوتا ہے کہ وہ بیچارے کبھی بیرون ملک گئے ہی نہیں ، انہوں نے پیسہ چوری کرکے پہلے بیرون ملک بھیجا اورپھر وہاں سے اپنے  ملازموں کے اکاؤنٹس  میں منگوایا ۔ شہباز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ ، وزیر اعظم کا جہاز استعمال کیا ، انہوں نے  39 دورے بیرون لک اور 515 اندرون ملک اسی جہاز پر کئے ، اس طرح  قومی خزانے کو 42 کروڑ کا نقصان پہنچا ، یہ سیدھا سیدھا نیب کیس ہے ۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ  ان کے ملازم گلزار چپراسی کے بینک اکاؤنٹ میں  50 لاکھ روپے آتے ہیں جو کوئی اورنگزیب بٹ دیتاہے ، اس ک بعد اورنگزیب بٹ چیئرمین بیوٹیفکیشن گجرات بنا دیا جاتا ہے اور ڈی سی ، ٹی ایم او ا س کے نیچے رکھ دئے جاتے ہیں تا کہ وہ اپنا پیسہ پورا کر سکے ۔ احسن اقبال کے بھائی کو  قوانین میں نرمی کر کے ہارٹیکلچر کا کنٹریکٹ دیا جاتا ہے  وہ ساڑھے چار کروڑ روپے کے پودے بیچتا ہے  ، یہ بھی  نیب کیس  ہے ۔ جب نواز شریف 2013 میں اقتدار میں آتا ہے تو لاہور کا ماسٹر پلان تبدیل کر دیا جاتا ہے ، فوری طور پر مریم نواز 80 کرور روپے کی  زمین رائیونڈکے قریب  خرید کر  براہ راست فائدہ اٹھا لیتی ہے ۔ چودھری شوگر ملز میں مریم نواز 12 ملین شیئرز خریدتی ہے جس کیلئے وہ 99 کروڑ روپے دیتی ہے مگر اس 99 کروڑ کی کوئی سورس آف انکم نہیں بتائی جاتی ۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ    یہ کرپشن کیسز ختم کرا کر چوری کا بازار شروع کرینگے ، یہ سارے کیسز ان کے دور کے ہیں ، ہمارے دور میں بنایا گیا ایف آئی اے کا مقصود چپڑاسی والا کیس مضبوط ترین کیس ہے ،  لیکن ہمارا انصاف کا نظام ایسا ہے کہ تاریخ پر تاریخ دے دی جاتی ہے ،  کبھی بینچ ٹوٹ جاتا ہے ، نیب میں جانا ہو تو جلسہ کر دیا جاتا ہے ،  ایونٹ فیلڈ کے سوا کسی کیس  کو اختتام تک نہیں پہنچایا گیا۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ   اسلام آباد کی جو کال دی ہے وہ تاریخ کی سب سے بڑی عوامی  موومنٹ ہو گی ، عوام اس طرح کبھی گھروں سے نہیں نکلی ہو گی جس طرح اب نکلے گی ، میں چاہوں تو آج بھی عوام کو نکال سکتا ہوں  لیکن چاہتا ہوں کہ ان کی ٹریننگ ہو ، رہی بات  انتقامی کارروائیوں کی تو یہ عوام کو اور جوش دیں گی  ۔  شریفوں نے ساری زندگی انتقامی کارروائی کی ، یہ ان کے ڈی این اے میں ہے ، انہوں نےجب نجم سیٹھی کو بند کر کے ڈنڈے مارے  ۔ آج ہماری عدلیہ  آزاد  بیٹھی ہے ، ایسی آزاد عدلیہ کبھی نہیں تھی  ، پختونخوا  میں  9 سال ہو گئے ، ہم نے ایک جھوٹا کیس نہیں کیا  لیکن  انہوں نے آتے ہی  ہمارے خلاف جھوٹے کیسز بنائے جن کے ثبوت بھی نہیں ہیں ، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایف آئی آر درج کیسے ہو سکتی ہے مجھے سمجھ نہیں آتی۔

انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی تیاریوں اور نئی حلقہ بندیوں سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ آئین  الیکشن کمیشن آئین  کو کہتا ہے کہ 90 دن میں  الیکشن کرانے کی تیاری ہونی چاہئے  یہ اگر نوے دن میں الیکشن نہیں کرا سکتے تو ان کے خلاف ایکشن ہونا چاہئے ،   اس چیف الیکشن کمیشن پر ہمیں کوئی اعتماد نہیں  ، اس نے ہر موقع پر ہمیں نقصان پہنچایا ،  عدالتوں کو اسی وقت اسے برطرف کرنا چاہئے تھا جب اس نے کہا کہ ہم تو کئی مہینے تک الیکنشن نہیں کرا سکتے ۔وقت گزر جاتا ہے ، 70 کی دہائی میں وقت اور تھا، یہ سوشل میڈیا کا ٹائم ہے ، پہلے کبھی بھی ایک خبر اتنی تیزی سے نہیں پھیلی جتنی آج پھیلتی ہے ، آج دو تین گھنٹے میں ساری دنیا میں بات پھیل جاتی ہے ، آج جس کے پاس موبائل فون ہے ، اس کی آواز ہے ،  اگر  کوئی عوامی رائے کو کنٹرو ل کرنے کی سوچ رہا ہے تو وہ پرانے دور میں رہ رہا ہے ،   میں عوام کو دیکھ رہا ہوں ،میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ عوام میں اتنا شعور ہوگا،   اسلام آباد مارچ میں  عورتیں بچے ، فیملیز نکلیں گی ۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ  22 کروڑ عوام کے خلاف اتنی بڑی سازش ہوئی ہے  کہ اگر وہ بنانا ریپبلک میں  بھی ہوتی تو وہاں سے بہت بڑا رد عمل آتا ، ان کے اداروں نے بھی سنجیدہ لینا تھا ،   ایک منتخب وزیر اعظم کی حکومت کو بیرونی سازش اور اندر موجود میر جعفر نے  تبدیل کیا۔ عوام کو تکلیف ہے کہ بد ترین کرپٹ افیا کو ان پر مسلط کر دیا  ،  اب اداروں کو بہتر کام کرنا چاہئے ،  ہم نے اداروں  کو کال کیا ہے کہ وہ اپنی ساکھ کیلئے اس کو ایکسپوز کریں ۔

مزید :

اہم خبریںقومی





Source link

More articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest article