میڈیکل سائنس میں انقلاب: ادویات کا استعمال مریض کے ڈی این اے کے مطابق ہو گا

Must read

جیمز گیلیگر
صحت و سائنس نامہ نگار
ایک گھنٹہ قبل
Scientist looking at DNA
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
ایک اہم سائنسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طب کی دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے جہاں ہر مریض کے ڈی این اے کے مطابق اس کو ادویات دی جائیں گی۔

میڈیکل سائنس میں انقلاب: ادویات کا استعمال مریض کے ڈی این اے کے مطابق ہو گا

چند ادویات کا استعمال کسی کے لیے غیر مؤثر یا مہلک ہو جاتا ہے کیونکہ سب جسم ایک طرح کام نہیں کرتے اور ان میں انتہائی باریک فرق ہوتا ہے۔

برٹش فارماکولوجیکل سوسائٹی اور رائل کالج آف فزیشن کا کہنا ہے کہ جینیاتی ٹیسٹ کرنے سے ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کوئی دوا کسی ایک انسان پر کیسے اثر کرے گی۔ یہ جینیاتی ٹیسٹ اگلے برس سے برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے پاس میسر ہوں گے۔

کسی بھی انسان کا ڈی این اے یا جنیاتی کوڈ اس کے جسم کے متعلق ایک کتابچے کی اہمیت رکھتا ہے کہ وہ انسانی جسم کام کیسے کرتا ہے۔ ادویات کا ڈی این اے کے مطابق استعمال کرنے کو فارماکوجینومکس کہا جاتا ہے۔

اشتہار

اس طریقہ علاج سے لیورپول سے تعلق رکھنے والی جین برنز کو صحت یابی میں مدد ملی جن کی جلد کا دو تہائی حصہ مرگی کے مرض کے لیے استعمال کرنے والی دوا کے مہلک اثرات سے خراب ہو گیا تھا۔

جب وہ 19 برس کی تھی تو انھیں مرگی کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا کاربامازمین کا استعمال شروع کروایا گیا۔ اس کے دو ہفتوں بعد انھیں جلد پر ریش ہوئے اور جب انھیں بخار ہونا شروع ہوا تو ان کے والدین انھیں ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ جلد پر زخموں کے باعث اگلے ہی دن ان کی جلد متاثر ہونا شروع ہو گئی۔

جین نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘مجھے یاد ہے کہ جب میں نیند سے جاگی تو میرے ساری جلد پر چھالے تھے، یہ کسی ڈراؤنی فلم جیسا تھا، مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے میں جل رہی ہوں۔‘

Jane Burns
،تصویر کا ذریعہJANE BURNS
مرگی کے مرض کی دوا کی وجہ سے وہ سٹیونز جانسن سنڈروم کا شکار ہو گئی تھی جس نے ان کی جلد کو متاثر کیا اور یہ زیادہ تر ان افراد میں ہوتا ہے جو پیدائشی طور پر ایک خاص قسم کے جینیاتی جنوم کے حامل ہوتے ہیں۔

میڈیکل سائنس میں انقلاب: ادویات کا استعمال مریض کے ڈی این اے کے مطابق ہو گا

مسز برنز کہتی ہیں کہ وہ ‘بہت زیادہ خوش قسمت تھی اور وہ فارماکوجینومک ٹیسٹ کی حمایت کرتی ہیں۔’

وہ کہتی ہیں کہ ‘ اگر یہ آپ کی جان بچائے تو یہ زبردست ہے۔‘

More articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest article