پنجاب میں من  پسند ‏نشستوں پر تعینات رہنے والے  131 بیوروکریٹس کیخلاف ایکشن کا فیصلہ رپورٹ تیار وزیر اعظم کو بھی بھیجی جائے گی

Must read


پنجاب میں من  پسند ‏نشستوں پر تعینات رہنے والے  131 بیوروکریٹس کیخلاف ایکشن …

  

لاہور (جاوید اقبال سے)  پنجاب میں پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت یعنی بزدار سرکار میں من  پسند ‏نشستوں پر تعینات  131 بیوروکریٹس کے خلاف شکنجہ تیار کر لیا گیا ہے۔ ان افسروں کے ناموں کی فہرست اور کارکردگی رپورٹ  مرتب کی گئی ہے، ان افسروں کے گروپ بھی بتائے گئے ہیں ابتدائی طور پر ان افسروں کو 4 گروپوں  میں تقسیم کیا گیا ہےجن میں عثمان بزدار گروپ، چوہدری خانوادے کی اہم شخصیت   کاگروپ  اور فرح  گوگی  گروپ  شامل ہیں ۔ہر گروپ کے افسر پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ۔یہ رپورٹ3 مختلف اداروں نے تیار کی ہے جو آئندہ چند روز میں وزیر اعظم  شہباز شریف کو پیش کر دی جائے گی۔ذرائع کے مطابق ان افسروں کو رپورٹ میں کرپٹ ترین افسروں کا لقب دیا گیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق ان افسروں میں سابق وزیر اعلی عثمان بزدار کے3 پرنسپل سیکرٹری کے نام شامل کیے گئے ہیں اسی طرح 13پولیس افسروں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو کہ گریڈ 19 سے 21 کے آفیسر ہیں ۔اس  کے علاوہ 9کمشنرز 14سیکریٹریز جو کہ گریڈ 19 سے 21 کے آفیسر ہیں وہ بھی اس فہرست میں شامل ہیں ۔ایل ڈی اے کے 2 سابق ڈی جی ،1 سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، 2 رجسٹرار کواپریٹو، 2ڈی جی فوڈ بھی اس لسٹ میں شامل  ہیں۔محکمہ انہار ہیلتھ ایکسائز ایجوکیشن ٹرانسپورٹ فوڈ اینٹی کرپشن ایس این جی ڈی  کے 2سیکریٹری،راولپنڈی سے لاہور ٹرانسفر کرکے میٹروپولیٹن میں بڑے عہدے پر لگائے گئے ایک آفیسر کا نام بھی  اس میں شامل ہے جس کے بارے میں اس میں لکھا گیا کہ انہوں نے سابق وزیر داخلہ کو راضی کیا اور اس عہدے پر آگئے۔ لوکل گورنمنٹ کے 4 افسر  بھی اس فہرست میں شامل ہیں، محکمہ انرجی کے سابق سیکریٹری سمیت کئی افسر  بھی اس  رپورٹ میں دھر لیے گئے ہیں ۔محکمہ صحت کے 9ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ 6 پرنسپلز اور 3 وائس چانسلر  بھی اس میں شامل ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان افسروں نے اربوں روپے کی کرپشن کرکے اپنے گروپ لیڈر ز کو راضی کیا اور صوبےکرپشن  بڑھانے  بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ رپورٹ میں ہر افسر اور اس کے گروپ کی شخصیات کے کارناموں  کی تشریح بھی کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

مزید :

اہم خبریںعلاقائیپنجابلاہور





Source link

More articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest article