چیف الیکشن کمشنر کی زیر سربراہی پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کی سماعت فریقین کے وکلاء پیش ہوئے

Must read


چیف الیکشن کمشنر کی زیر سربراہی پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کی …

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) چیف الیکشن کمشنرکی سربراہی میں 3رکنی بنچ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی  جہاں   اکبر ایس بابر اور پی ٹی آئی کے وکیل پیش ہوئے ۔

تفصیلات کے مطابق  تحریک انصاف کے وکیل  انور منصور  نے  الیکشن کمیشن بینچ کے سامنے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا ۔   معاون وکیل نے کہا کہ  ہائیکورٹ اکبرایس بابرکوکیس سےالگ کرنےکی درخواست خارج کرچکی ہے ۔ وکیل انور منصور نے کہا کہ  اسلام آباد ہائیکورٹ نے جو آبزرویشن دی وہ بدقسمتی ہے، میں  اپنا اعتراض کمیشن کےسامنےرکھناچاہتاہوں کہ  الیکشن کمیشن اس وقت مکمل نہیں ہے،  الیکشن کمیشن کے 2 ارکان تعینات نہیں ہوسکے۔

وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ  یہ اعتراض پہلےبھی اٹھایاگیاتھالیکن خارج کیاگیا۔ پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے کہا کہ  اعتراض کامقصدسماعت رکوانانہیں، آئین میں الیکشن کمیشن کےممبران کی تعدادمتعین ہے، الیکشن ایکٹ 2017 کےمطابق کمیشن کےتمام ارکان کاہونالازمی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ  ہائیکورٹ نے 30 روزمیں فیصلےکی ہدایت کی اس کاکیاکریں گے؟۔ انور منصور نے کہا کہ  دلائل اور کیس سے راہ فرار اختیار نہیں کرونگا، پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کے تحت  غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈنگ کی اجازت ہے ، ہر جگہ فارن فنڈنگ کا ذکر ہوتا ہے جبکہ کیس ممنوعہ فنڈنگ کا ہے ، ممنوعہ  فنڈنگ ملک کے اندر سے بھی ہو سکتی ہے ، سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز غیر ملکی فنڈنگ تک محدود تھے ، کمیٹی الزامات کی روشنی میں فارن فنڈنگ کی تحقیقات کر سکتی تھی ۔

مزید :

اہم خبریںقومی





Source link

More articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest article