کل خیبرپختون خوا سے قافلہ لے کر نکلوں گانیوٹرلز آپ کو قوم دیکھ رہی ہے سیاست نہیں جہاد کر رہا ہوں: عمران خان

Must read



کل خیبرپختون خوا سے قافلہ لے کر نکلوں گا،نیوٹرلز آپ کو قوم دیکھ رہی ہے، …

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ میں کل خیبرپختون خوا سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قافلہ لے کر اسلام آباد کیلئے روانہ ہوں گا،میں اس کو سیاست نہیں سمجھ رہابلکہ جہاد سمجھ رہاہوں ، کسی کی جان کو خطرہ میری جان کو خطرہ ہے ، مجھے اس کی  کوئی فکر نہیں ہے ،مجھے خوف آ رہاہے کہ ہم سری لنکا کی طرف جارہے ہیں، مہینے نہیں ہفتوں میں اس طرف جا رہے ہیں،نیوٹرلز ، ججز ، لائرز  سب کو پیغام دے رہا ہوں یہ فیصلہ کن وقت ہے ، امریکی ان کو ایک سازش کے تحت لے کر آئے ہیں، اس کے بعد اگر یہ سمجھتے ہیں کہ میں ان مجرموں کو مان لوں گا تو ان کی غلامی سے موت بہتر ہے۔میں ساری بیوروکریسی کو کہہ رہے ہیں کہ ہم ایک ایک کو دیکھ رہے ہیں، ایک ایک کے نام یاد رکھیں گے ، آپ کو غلط اور غیر قانونی احکامات ماننے کی ضرورت نہیں ہے ، آپ کا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا ہے،غیر قانونی احکامات مانیں گے تو آپ پر ایکشن لیا جائے گا، یہ نہ سمجھیں کہ عوام کو کوئی روک سکتاہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 126 دن  کا دھرنا دیا ، کوئی بتائے کہ ہم نے کبھی لڑائی کی ہو، رات سے میں چیزیں دیکھ رہاہوں ، مجھے جو اپنے لوگوں سے پیغام آ رہے ہیں، میں سب سے سوال پوچھ رہاہوں ، یہ فیصلہ ہو گا کہ یہ کس طرح کا پاکستان بنے گا، دو طرف جا سکتے ہیں، کیا ہم اس کو وہ پاکستان بنانا چاہتے ہیں جو قائداعظم کا پاکستان ہے ، یا یہ چور ڈاکوﺅں کا پاکستان ، 60 فیصد کابینہ مجرم ہے ، یہ ضمانت پر ہیں، یہ وزیراعظم اور اس کے بیٹے کو سزا ہونی تھی ، 24 ارب روپے کے کیسز کی سزا ہونی تھی ، یہ آج ملک کے فیصلے کر رہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ میرا سوال ملک کے ان تمام اداروں سے ہے جنہوں نے فیصلے کرنے ہیں، عدلیہ سے کہتاہوں کہ یہ آپ کی ٹرائل ہے ، قوم آپ کے فیصلوں کی طرف دیکھے گی، اگر آپ نے جمہوریت کی حفاظت نہ کی ، ہم نے پر امن احتجاج کرنے کا واضح کہاہے ، ہم جب کہہ رہے ہیں کہ پر امن احتجاج ہو گا تو یہ ہمارا جمہوری حق ہے ، احتجاج اس  لیے کرنے جارہے ہیں کہ باہر سے سازش کی گئی ، جس کا مراسلہ تقسیم کیا ، چیف جسٹس کے پاس موجود ہے ، قومی سلامتی کمیٹی میں ثابت ہوا کہ مداخلت ہوئی، سازش کر کے ان لوگوں کو لایا گیا ، یہ تیس سال سے ملک کو لوٹ رہے ہیں، کیا یہ ہمیں غلام سمجتھے ہیں ، کیا ہمیں یہ بھی اجازت نہ ہو کہ ہم احتجاج کر سکیں ۔

بلاول جب لانگ مارچ لے کر آئے تو کیا کسی کو پکڑا گیا ، فضل الرحمان نے لانگ مارچ کیا ، کیا ہم نے پکڑ دھکڑ کی تھی ، ہم نے یہ کہا تھا کہ ہم ان کی مدد کرتے ہیں۔ ہم نے کبھی اس طرح کی حرکت کی ہے ؟،آج سارا ملک بند کر دیاہے ، رکاوٹیں ڈال دی ہیں، ہراساں کر رہے ہیں، خواتین کی فکر نہیں کر رہے ، شریف لوگوں کے گھروں پر اٹیک کر رہے ہیں، کیا ہماری عدلیہ اس کی اجازت دے گی، میں افسوس سے کہنا چاہتاہوں کہ اگر آپ نے یہ اجازت دی تو اس ملک کے عدلیہ کی ساکھ ختم ہو جائے گی، اس کا مطلب ہے کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے ۔

عمران خان نے کہا کہ میں اپنے وکیلوں کو خراج تحسین پیش کرتاہوں جس طرح وہ جمہوریت کیلئے کھڑے ہوئے ہیں، وہ بار ایسوسی ایشن جو اس کی مذمت نہیں کرے گی ، مجرموں کی کابینہ نے جو فیصلہ کیاہے ، غیر قانونی ہے، آپ کی طرف بھی ساری قوم دیکھ رہی ہے جولوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔اس وقت نیوٹر ل رہنے کی گنجائش کسی کیلئے نہیں ہے ، اللہ ہمیں نیوٹرل رہنے کی اجازت نہیں دیتا، آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ آپ حق کے ساتھ کھڑے ہیں یا دوسری طرف کھڑے ہیں، بیچ میں بیٹھنے کا مطلب آپ مجرموں کی مدد کر رہے ہیں، پاکستان کی سالمیت اور خود داری کی حفاظت کرنی ہے ، یہ جوہو رہاہے ، یہ جو ہمارے سابق فوجیوں سے کر رہے ہیں ،قوم آپ کی طرف بھی دیکھ رہے ، اگر یہ ملک تباہی کی طرف جاتاہے تو آپ بھی اتنے ہی ذمہ دار ہوں گے ۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے حالات خراب ہیں، انہوں نے ڈیڑھ ماہ میں معیشت تباہ کر دی ہے ، ہر روز مہنگائی بڑھ رہی ہے ، ابھی مہنگائی کی لہر آئے گی ، قوم کو اس وقت اندھیرا نظر رآ رہاہے جب تک یہ لوگ اوپر بیٹھے ہیں، جمہوری حل یہ ہے کہ الیکشن کروائیں، اس کے علاوہ کوئی اور دوسرا حل نہیں ہے ، جو بھی کریں گے ملک نیچے ہی جاتا رہے گا ، مجھے خوف آ رہاہے کہ ہم سری لنکا کی طرف جارہے ہیں، مہینے نہیں ہفتوں میں اس طرف جا رہے ہیں  ۔

ان کا کہنا تھا کہ  ہمارے راستے میں چور بٹھا دیئے ہیں، چور اس لیے نہیں چاہتے کہ انہوں نے اقتدار میں ملک کی خدمت نہیں کرنی اپنے کرپشن کے کیسز ختم کرنے ہیں، چوبیس ارب کے کیسز ختم کرنے ہیں ، انہوں نے نیب ختم کرنی ہے ، الیکشن کمیشن کو اپنا غلام بناناہے ، وہاں بیٹھ کر انہوں نے تیاری کرنی ہے کہ جب بھی الیکشن ہو اسے دھاندلی سے جیت سکیں ۔نیوٹرلز ، ججز ، لائرز  سب کو پیغام دے رہے ہیں  کہ  یہ فیصلہ کن وقت ہے ، میں اپنے صحافیوں کو سلیوٹ کرتاہوں جو آج اس ملک کی خود داری کیلئے کھڑے ہوئے ہیں ، جن کے خلاف آج ایف آئی آر زکاٹی جارہی ہیں ، جن کو غدار کہا جارہاہے قوم انہیں بڑی دیر سے جانتی ہے ، صحافیوں کو ڈرایا جارہاہے، ان صحافیوں سے پوچھتاہوں کہ جو ہمیں کہتے تھے کہ کوئی آزادی اظہارئے پر پابندی لگارہے ہیں، مجھے یہ بھی پتا ہے کہ کن کن صحافیوں اور میڈیا ہاوسز پر باہر سے پیسہ آنے کے بعد لگا ،اعدادو شمار جھوٹ نہیں بولتے ، کورونا کے باعث چھ فیصد معیشت بڑھی ، کسانوں کے پاس کبھی اتنا پیسہ نہیں آیا جتنا ہمارے دور میں آیا، ہم یہ پوچھ رہے ہیں وہ ملک جو سب سے بہتر جارہاتھا ، سب سے زیادہ روزگار ہم دے رہے تھے ، اس کے اوپر انہوں نے مہم چلائی ، یہ مہم باہر سے فنانس کی گئی ، آج آپ دیکھیں یہ تجربہ کار حکومت کے کیا حالات ہیں ۔میں آج ورکنگ جرنلسٹ  کو خراج تحسین پیش کرتاہوں ، یہ وہ لوگ ہیں جو مشکل وقت میں فرائض انجام دیتے ہیں ، وہ ابھی بھی کور یج کر رہے ہیں،  میڈیا ہاﺅسز آج جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ بھی فیصلہ ہو جائے گا کہ کون اس طرف ہے اور کون دوسری طرف ہے ۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ کل رات کو ایک ویڈیو دیکھی، جسٹس ناصرہ اقبال ، ڈاکٹر جاوید اقبال کی بیوی ہیں، علامہ اقبال کی بہو ہیں، جسٹس ناصرہ اقبال کے گھر پر رات کو ریڈ ہوتی ہے ، ان کی ویڈیو ز وائرل ہو رہی ہیں ، سب سے پوچھتاہوں کہ ، اپنی عدلیہ اور نیوٹرلز سے پوچھتاہوں کہ کیا یہ جو آپ سین دیکھ رہے ہیں کون سی حکومت اس طرح کی چیزیں کر سکتی ہے ، کوئی جمہوری حکومت یہ نہیں کر سکتی ،یہ صرف مجرموں کی حکومت کر سکتی ہے ، حماد اظہر کے گھر پر حملہ کیا گیا ، ان کی عورتیں اوپر بیٹھی تھیں، ہمارے کراچی میں اراکین اسمبلی کو پکڑ لیاہے ۔ دیکھیں میں انشاءاللہ کل پختون خواسے پورا اور پاکستان کا سب سے بڑا جلوس لے کر اسلام آباد کی طرف نکل رہاہوں ، پختون خوامیں ہر طرف سے ہمارے ساتھ قافلے اسلام آباد پہنچیں گے ،میں اس کو سیاست نہیں سمجھ رہابلکہ جہاد سمجھ رہاہوں ، کسی کی جان کو خطرہ میری جان کو خطرہ ہے ، مجھے اس کو کوئی فکر نہیں ہے ، میں اس کو سیاست نہیں بلکہ جہاد سمجھتاہوں ، جو امریکہ یہ چور لایاہے صرف اس لیے کہ یہ ساری چیزیں ان کی مانیں گے ۔400 ڈرون اٹیک ہوئے ان کے منہ سے ایک لفظ  نہیں نکلا ، ان کو خوف تھا کہ یہ بولیں گے تو ان کے پیسے پکڑیں گے ۔یہ لوگ چوروں کی کابینہ ، ان کے لیڈرز جن کے پیسے باہر پڑے ہیں ، امریکی ان کو ایک سازش کے تحت لے کر آئے ہیں، اس کے بعد اگر یہ سمجھتے ہیں کہ میں ان مجرموں کو مان لوں گا تو ان کی غلامی سے موت بہتر ہے ، میں کل قافلے کے ساتھ اسلام آباد کیلئے نکلوں گا ۔ قوم سے کہنا چاہتاہوں کہ یہ جو انہوں نے ڈرانے کی کوشش کی ہے ، خدا کے واسطے یہ خوف کی زنجیریں توڑ دیں ، چار ہزار انگریزیوں نے ہندوستان میں چالیس کروڑ لوگوں پر حکومت کی ہے ، خوف غلام بناتاہے ، جب بھی افغانستان پر باہر کی طاقت آئی ہے وہ کھڑے ہو جاتے ہیں ، وہ ہار نہیں مانتے ، وہ سپر پاور کو شکست دے چکے ہیں۔میں آپ کو کہہ رہاہوں کہ مجھے اپنی جان کی فکر نہیں ہے ، کتنے لوگ جیلوں میں چلے جائیں گے ، کیا اتنی پولیس ہے کہ عوام کے سمندر کوجیل میں ڈالیں گے ، نہیں ڈال سکتے ، آپ پر کسی قسم کا خوف نہیں ہے ،تحریک انصاف کے لیڈر ز کو جیل میں ڈال دیاہے تو کوئی فکر نہیں آپ سب کو نکلنا ہے آپ سب لیڈرز ہیں ۔

ایمان والے لوگوں میں خوف نہیں ہوتا ، عزت اور زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے ، میں پولیس اور بیوروکریسی کو پیغام دینا چاہتاہوں کہ جو حرکتیں کی جارہی ہیں، اسلام آباد کا یہ آئی جی جو لارہے ہیں وہ مجرم ہے ، اس لیے میں ساری بیوروکریسی کو کہہ رہے ہیں کہ ہم ایک ایک کو دیکھ رہے ہیں، پنجاب کی بیوروکریسی حمزہ کے احکامات کیسے مان رہے ہیں، یہ لوٹوں کے سر پر آیا تھا ، یہ کیسے آپ کو حکم دے رہاہے ، کس طرح آپ غیر قانونی کام کر رہے ہیں، ایک ایک کے نام یاد رکھیں گے ، آپ کو غلط احکامات ماننے کی ضرورت نہیں ہے ، اسلام آبادکے آئی جی کو اسی لیے لایا گیا۔غیر قانونی احکامات مانیں گے تو آپ پر ایکشن لیا جائے گا، یہ نہ سمجھیں کہ عوام کو کوئی روک سکتاہے ۔ 

ملک کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے ، یہ آپ کی جنگ ہے ، یہ ہم سب کی جنگ ہے ، یہ اوپر رہ گئے تو قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہے ۔

مزید :

اہم خبریںقومی





Source link

More articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest article