ہم ممی ڈیڈی پارٹی نہیں  ڈاکٹر یاسمین راشد کھل کر بول پڑیں

Must read



“ہم ممی ڈیڈی پارٹی نہیں ” ڈاکٹر یاسمین راشد کھل کر بول پڑیں

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ک ہم ممی ڈیڈی پارٹی نہیں  بلکہ  ملک پر قربان ہونے کو تیار ہیں ، ہم نے سر پر کفن باندھ لیا ہے ۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ  ہماری ایم پی اے راشدہ کے گھر میں دروازہ توڑ کر پولیس اہلکار گھسے اور اسے گھر سے گھسیٹ کر نکالا گیا ،  امپورٹڈ حکومت  کا اصلی چہرہ یہی ہے یہ باہر کے ایجنڈے پر قتل و غارت کر رہی ہے ،  اسلام آباد کے ڈی چوک میں 34 ہزار شیل برسائے گئے ،  مرد پولیس اہلکاروں نے ہمیں گھسیٹ کر اتارا ، ہم پر ڈنڈے برسائے گئے ،میں نے پوری کوشش کی کہ شفیق آباد تھانے میں پرچہ درج کرا سکوں ،میری درخواست وہاں موصول نہیں ہوئی   البتہ علم ہو ا کہ  ہمارے خلاف یعنی نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے ۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ مار بھی ہم کھائیں ، گھسیٹیں بھی ہمیں اور ایف آئی  آر بھی ہمارے ہی خلاف درج کی جائے ، رانا ثناء اللہ قاتل ہے ، وہ ماڈل ٹاؤن  سانحے کا قاتل ہے ،ا گر اسے سزا ہوتی تو پولیس کی جرات نہیں ہونی تھی کہ کسی پر ہاتھ اٹھاتے ،  دھمکیاں دینے والے رانا ثناء کو کہتی ہوں کہ ثناء اللہ صاحب ، ہمارے سامنے آؤ، ہم نے نہ پکڑ لیا تو کہنا ۔

 رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ کارکنوں  پر پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہیں ،  کسی قانون میں لکھا ہے  کہ پرمن احتجاج  نہیں کیا جا سکتا ، سپریم کورٹ  نے گرفتار کارکنوں کو رہا کرنے کا حکم دیا،  راستے کھلوانے کا حکم دیا مگر انہوں نے  عمران خان  سمیت ہم سب پر اسلام آباد کے ہر تھانے میں مقدمہ درج کیا ،  یہ پرچے صرف دباؤ ڈالنے کیلئے تھے ۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ ہم ممی ڈیڈی پارٹی نہیں ، ملک پر قربان ہونے کو تیار ہیں ، ہم نے سر پر کفن باندھ لیا ہے ، چور اچکے ڈاکو جتنے ہیں ہم انہیں نہیں بھاگنے دیں گے ،  مریم  نواز کو شرم آنے چاہئے جو کہتی ہیں کہ ہم نے لوگوں کے بچے مروایے ، میری گاڑی میں میرے ساتھ میری بہن اور بیٹھی موجود تھی ،ہم پر امن آرہے تھے ، ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے لئے بھی عدالت سو موٹو ایکشن لے گی ۔

سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ میں عمران خان کا شکریہ ادا کرتی ہوں کیونکہ حکومت تو پلان کر بیٹھی تھی کہ تصادم ہو ، پولیس والے بھی مرتے تو وہ بھی ہمارے ہی ہیں ، لاہور میں جو کانسٹیبل مارا گیا مجھے اس کی بھی تکلیف ہے ، میرے احتجاج میں شامل بچے پولیس کی طرف بڑھے مگر میں نے روک دیا کہ   کسی کو ہاتھ مت لگانا ۔

مزید :

اہم خبریںقومی





Source link

More articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest article