ہم نے آئی ایم ایف کی شرائط مستردکیں یہ بھی اگر کھڑے نہیں ہونگے   تو سب  ڈنڈے  ماریں گے شوکت ترین  نے خبردار کردیا

Must read



“ہم نے آئی ایم ایف کی شرائط مستردکیں، یہ بھی اگر کھڑے نہیں ہونگے   تو سب  ڈنڈے …

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)   پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ہم پر آئی ایم ایف کا الزام عائد کیا جاتا ہے ، بتانا چاہتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی حکومت تو پہلی بار آئی ، آئی ایم ایف کا پروگرام پہلے سے چل رہا تھا ، ہم نے آئی ایم ایف کی شرائط مستردکیں، یہ بھی اگر کھڑے نہیں ہونگے   تو سب  ڈنڈے  ماریں گے ۔

سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ جس آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت انہوں نے آج بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ کیا ہے ہماری حکومت نے اسی پروگرام میں عوام دوست اقدامات کئے ،  کورونا میں ریلیف دیا ،  ہم آئی ایم ایف کی ملک دشمن شرائط کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو گئے ، آئی ایم ایف نے ہم پر بھی بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیلئے دباؤ ڈالا مگر ہم نے کہا کہ ہم نہیں بڑھائیں گے ، آج انہوں نے جس دباؤ کے تحت بجلی اور پٹرول کی قیمتیں بڑھا دیں ، ہم اس کے خلاف چھ ماہ تک ڈٹ کر کھڑے رہے اور کہا کہ جب تک آپ ان نکات میں تبدیلی نہیں کریں گے  تب تک ہم معاہدہ نہیں کریں گے ۔

پی ٹی آئی کے رہنما شوکت ترین نے کہا کہ  انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں  40 فیصد جبکہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں  47 فیصد کا اضافہ کر دیا گیا ہے ، یہ سب آئی ایم ایف کی شرائط پر کر رہے ہیں ، ہمارا فلسفہ تھا کہ ہم نے عام آدمی پر بوجھ نہیں ڈالنا ، ہم روس سے سستا تیل لینے گئے تھے  ۔

شوکت ترین نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتو ں میں اضافے کی بڑی وجہ ریفائنریز کا بہت بڑا منافع ہے  جن میں سے  دو تو ہماری اپنی ہیں   ، ان سے مارجن کم کروا کر عوام کو ریلیف دیتے ۔  ان کی نالائقی پر آئی ایم ایف نے  انہیں ڈنڈے مارنے شروع کر دیے ، جب تک یہ عوام کے مفاد کیلئے کھڑے نہیں ہوں گے سب انہیں ڈنڈے ماریں گے ، گزشتہ پانچ روز میں  پٹرول کی قیمت  60 روپے ، ڈیزل کی 55 روپے اور بجلی کی 47 فیصد قیمت بڑھ چکی ہے ، دو سو روپے کوکنگ آئل بڑھ گیا ہے ، یہ ہمیں کہتے ہیں کہ ہم معیشت ڈبو کر گئے ، ان کے اپنے نمبرز کہتے ہیں کہ ہماری دور میں جی ڈی پی ہر سال 5.2 فیصد سے زیادہ ہوئی ، زراعت 4.4 فیصد اضافہ ہوا  جو گزشتہ دس سال میں سب سے زیادہ ہے ،  سروسز سیکٹر بھی بلند ترین رہا اور اس اعداد و شمار پر انہوں نے خود سائن بھی کئے ہیں ۔ 

مزید :

اہم خبریںقومیبزنس





Source link

More articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest article